بھٹکل 29 / فروری (ایس او نیوز) بھٹکل سمندر کے ممنوعہ علاقے میں غیر قانونی طور پر مچھلیوں کا شکار کرنے کا الزام لگاتے ہوئے بھٹکل کے کچھ ماہی گیروں نے دو دن قبل منگلورو اور ملپے سے تعلق رکھنے والی جن کشتیوں کو بندرگاہ تک کھینچ لانے کی کارروائی کی تھی اس میں نیا موڑآگیا ہے کیونکہ ملپے سے تعلق رکھنے والی کشتی کے مالک نے ماہی گیروں سمیت اپنی کشتی اغوا کرنے کے علاوہ لاکھوں روپے کی مچھلیاں اور ڈیزل لوٹنے کا الزام لگاتے ہوئے ملپے پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کی ہے ۔
ملپے کے چیتن سالیان نے پولیس کے پاس درج شکایت میں کہا ہے کہ کشتی پر ان کے کچھ ماہی گیر 19 فروری کو گہرے سمندر میں مچھلیوں کا شکار کرنے کے لئے نکلے تھے۔ 27 فروری کو لاکھوں روپے مالیت کی مچھلیوں کے ساتھ واپس لوٹتے وقت کشتی کے پنکھے میں جال پھنس جانے سے کشتی بند ہوگئی۔ اس موقع پر تقریباً 25 انجان لوگوں پر مشتمل ایک ٹولی نے اس کشتی پر حملہ کر دیا اور ماہی گیروں سمیت کشتی کنارے تک کھینچ کر لے گئے۔ اُس وقت کشتی میں تقریباً 8 لاکھ روپے مالیت کی مچھلیاں تھیں اور 5,76,700 روپے کا ڈیزل بھرا ہوا تھا جسے اغوا کاروں نے لوٹ لیا ہے۔ اس کے علاوہ اغوا کیے گئے ماہی گیروں کو جسمانی اور ذہنی اذیتیں دی گئی ہیں۔
ملپے پولیس کے سب انسپکٹر پردیپ نے اس شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے اپنی ٹیم کے ساتھ بھٹکل بندرگاہ پر پہنچ کر متعلقہ کشتیوں اور اغوا کیے گئے ماہی گیروں کا پتہ لگایا۔ پولیس کے بیان کے مطابق ملزمین کی تلاش جاری ہے۔ بھٹکل بندرگاہ پر کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکنے کے لئے پولیس نے حفاظتی بندوبست تیز کر دیا ہے۔
اس دوران خبر ملی ہے کہ منگلورو سے تعلق رکھنے والی جس کلیریا نامی کشتی کو کھینچ کر کنارے لایا گیا تھا اس کے مالک اور بھٹکل کے ماہی گیروں کے درمیان مفاہمتی سمجھوتہ ہوگیا ہے۔
اس سے قبل شائع خبر:
بھٹکل کے ماہی گیروں نے پکڑ لیں بیرونی ضلع کی دو کشتیاں - ممنوعہ علاقے میں ماہی گیری کا لگایا الزام